لاہور: پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِتمباکو نوشی کا دن منایا گیا۔ تمباکو خواہ کسی بھی حالت میں ہو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے ۔پاکستان میں روزانہ تمباکو نوشی سے 274 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ عوام ہر سال 35 سے40 ارب روپے کے سگریٹ پی جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے دل کے امراض کے ساتھ ساتھ گلے کا کینسر ، منہ کا کینسر، جگر کا کینسر بھی جنم لیتا ہے

۔اس کے علاوہ پھیپھڑوں کے امراض، دمہ ، کھانسی بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان طبی کانفرنس کے راہنماؤں پروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی ، پروفیسر حکیم سید عمران فیاض ، پروفیسر حکیم محمد افضل میو، حکیم احمد حسن نوری، حکیم امجد وحید بھٹی، حکیم فیصل طاہر صدیقی، حکیم محمد اسحق،حکیم طاہر نوید جنجوعہ، حکیم محمد ابوبکر، حکیم فاروق حسن، حکیم محمد احمداور ڈاکٹر سکندر حیات زاہد نے تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پرمنعقدہ طبی مذاکرہ سے خطاب کرے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِتمباکو نوشی کا دن منایا گیا۔ اور اس کے نقصانات سے آگاہ ہونے کے باوجود ہم خود اپنے ہاتھوں اپنی صحت کو تباہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی سے گلے، سینہ ، پھیپھڑے ، جگر ، دماغ اور دل کے امراض پروان چڑھتے ہیں۔ اس سے بھی خطرناک یہ کہ اب تمباکو نوشی پہلے سے بھی خطرناک حالت ، شیشہ نوشی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جو کہ سگریٹ نوشی سے چار سو گنا زیادہ خطرناک ہے ۔