لاہور (اُردو نیوز) تحریک لبیک آصف اشرف جلالی گروپ نے معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق2 روز قبل چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے آسیہ کیس کا فیصلہ سنایا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بنچ کا حصہ تھے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو الزامات سے بری کیا اور رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
جس کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے کئیے جارہے تھے ۔ملک کے بڑے شہروں میں حالات بدستور کشیدہ تھے۔تاہم کچھ دیر پہلے حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا ہے۔

5 نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
حالیہ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔اس معاہدے کے طے ہونے پر جہاں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے وہیں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اس معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے سرکردہ رہنماوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔تاہم آصف اشرف جلالی گروپ نے مذاکرات سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔آصف اشرف جلالی گروپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماراان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہمارا دھرنا جاری رہے گا اورہم اپنی جدوجہد کریں گے۔
The post تحریک لبیک کے بڑے ڈھڑے کا آصف اشرف جلالی کی سربراہی میں دھرنا جاری رکھنے کا اعلان appeared first on Urdu News.