سعودی عرب(ویب ڈیسک)سعودی عرب میں خواتین کے عبایا پہننے پر انوکھا احتجاج کیا خواتین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسے الٹا پہنیں گی۔ عام طور پر سعودی عرب میں خواتین کے گھر سے باہر نکلتے وقت عبایا پہننا لازمی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی معلومات کے مطابق ’ان سائڈ آؤٹ‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ان خواتین نے اپنی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کی ہیں جن میں انہیں عبایا الٹا پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کا موقف یہ ہے کہ ان پر عبایا پہننے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ گزشہ مارچ میں ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ عبایہ پہننا قانونی تقاضہ نہیں ہے۔ ایک انٹرویو میں ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھاکہ اس حوالے سے قوانین بالکل واضح ہیں اور شریعت میں خواتین کو بھی مردوں کی طرح مہذب اور باعزت قسم کے کپڑے پہننے چا ہئے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ کالے رنگ کی عبایا یا حجاب پہننا جائے اور یہ فیصلہ خواتین کا ہے کہ وہ کس قسم کے مہذب اور باعزت لباس پہنتی ہیں۔

#العبايه_المقلوبه ابتداء من اليوم سأرتدي عباءتي بالمقلوب احتجاجا على العادات وانظمة الدولة التي جعلتنا تحت التهديد لو تجرأنا وأظهرنا هوياتنا. نضطر نشتغل دوام كامل بالنقاب والعباية بحجة ان المكان مختلط وهذا الحمل ثقيل ثقيل على الكائن البشري أنا. لست. منقبة. يابشر #ForcedToWearIt pic.twitter.com/OEsh0RZfNq
— #FreeSaudiActivists حوراء (@Howwwra) November 11, 2018

ایک خاتون کا ٹوئٹ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ اپنی عبایا الٹی پہننا شروع کر رہی ہیں جس کا مقصد ان روایات اور رساستی قوانین کے خلاف احتجاج کرنا ہے جن کے تحت اگر ہم اپنی شناخت ظاہر کرنے کی ہمت کریں تو ہمیں خطرہ ہے۔

“هل خُلقنا لنتخفّى؟”، هكذا تساءلتْ فتاةٌ سعوديّة وهي تشارك في حملة #العباية_المقلوبة رفضاً للقيود الاجتماعية والرسمية التي تتحكّم في ما ترتديه #النساء في #السعودية . https://t.co/uMeCdiJvrq
— Wajd Bouabdallah (@tounsiahourra) November 12, 2018

The post تبدیلی کی لہر یا کچھ اور ۔۔۔۔؟ سعودی خواتین نے الٹا عبایا پہن کر گھروں سے باہر نکلنا شروع کر دیا ، مگر کیوں ؟ وجہ بھی سامنے آ گئی appeared first on Urdu News.