نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں انتہاپسندوں کی غنڈہ گردی بڑھ گئی۔ فلم کا نام ”لورتری“ رکھنے پر بھڑک اٹھے۔ انتہا پسند تنظیم نے اداکار سلمان خان کی پٹائی کرنے پر 2 لاکھ روپے کا انعام رکھ دیا۔ اس سے پہلے ”پدماوتی“ کی اداکار دپیکا کو ناک کاٹنے کی دھمکی دی تھی۔ہندو انتہاپسند رہنما پریون ٹو گڈیا نے فلم ریلیز نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انتہاپسند ہندوﺅں نے فلم کے پوسٹرز بھی نذر آتش کئے اور سلمان خان کیخلاف نعرے بازی کی فلم اکتوبر میں ریلیز ہوگی۔

دوسری جانب ایک خانب ایک خبر کے مطابق آگرہ۔ وشوا ہندو پریشد کے سابق بین الاقوامی صدر پروین بھائی توگڑیا کی نئی تنظیم ’ہندو ہی آگے‘ کی آگرہ یونٹ کے صدر گوئند پراشارنے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو برسرعام پٹائی کرنے والے کو دو لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے پروڈکشن ہاؤز کی فلم ’لو یاتری‘ رکھتے ہوئے ہندؤں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ فلم دانستہ طور پر ہندو تہوار ’نوراتری‘ کو ریلیز کی جارہی ہے۔

پراشار اور تنظیم کے دیگر کارکنو ں نے بھگوان ٹاکیز پہنچے اور سلمان خان کی فلموں کے پوسٹرس کو نذر آتش کیا۔ احتجاجی کارکنوں نے فلم اداکار سلمان خان اور فلم ’لویاتری‘ کے خلاف نعرہ بازی کی۔ یہ فلم اکتوبر میں ریلیز کی جانے والی ہے جس میں ان کی منہ بولی بہن ارپیتا خان کے شوہر ایوش شرما کو روشناس کروایا جارہا ہے۔ اس فلم کو سلمان خان پروڈیوس کررہے ہیں۔(ف،م)