نئی دہلی (اردو نیوز) بھارتی وزیراعظم نے شکست تسلیم کر لی، نریندر مودی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ مودی نے نا صرف اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، بلکہ بھارت کی ناکامی کا ملبہ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں پر بھی ڈال دیا ہے۔
ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کی ناکامی کا اعتراف کیا۔ نریندر مودی نے کہا کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو اسے یوں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ مودی نے کہا کہ اگر بھارت کے دفاعی معاملات پر سیاست نہ کی جاتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ مودی نے بھارت کی اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی فوج پر بھروسہ کریں۔
واضح رہے کہ مودی سرکار نے فرانس کے ساتھ تقریباً 8 ارب یورو کے عوض 35 رافیل طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی پر اس معاہدے میں کمیشن کھانے کا الزام عائد کیا جس کے بعد اس معاہدے پر عمل نہ کیا جا سکا۔ اب مودی نے اسی معاملے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بناتے ہوئے بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کو بھارت کی شکست کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
واضح رہے کہ پلوامہ حملے کے 26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے پاکستان پر نام نہاد حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ایک غیر آباد علاقے میں بم اور پے لوڈ گرا کر واپس بھاگ گئے تھے۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستان میں 300 دہشت گرد مارنے کا دعویٰ کیا گیا جو بعد میں جھوٹا ثابت ہوا۔ بعد ازاں پاکستان نے بھی جوابی کاروائی کی اور 2 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
تاہم بعد ازاں پاکستان نے جنگی صورتحال کو ختم کرنے کیلئے پہلا قدم اٹھایا اور بھارتی پائلٹ کو گزشتہ روز رہا کر دیا۔ تاہم اس کے باوجود بھارت کا جنگی جنون ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر مسلسل گولہ باری اور فائرنگ کی جا رہی ہے جس کے باعث اب تک 2 پاکستانی فوجی اور متعدد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ جوابی کاروائی میں پاکستانی فوج بھی کئی بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر چکی ہے۔
The post بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شکست تسلیم کر لی appeared first on Urdu News.