بھارتی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے ملک میں زنا کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا

بھارت کی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے ملک میں زنا کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے کہا کہ یہ قانون دستور کے آرٹیکل 14 اور 21 کے منافی ہے جو زندگی ، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں ۔ حذف کی جانے والی شق میں کہا گیا ہے اس کے مطابق ” اگر کوئی بھی شخص کسی ایسی عورت سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے ، جس کے بارے میں اسے معلوم ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے ، یا اس کا یہ خیال ہو کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے “ ، اور اس جنسی عمل میں اس کے شوہر کی مرضی یا معاونت شامل نہ ہو ۔
اور اگر یہ عمل ریپ کے زمرے میں نہ آتا ہو ، تو پھر وہ شخص زنا کے جرم کا مرتکب ہے اور اسے یا تو زیادہ سے زیادہ 5 سال قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا سنائی جاسکتی ہے ۔ لیکن بیوی کسی جرم کی مرتکب نہیں ہوگی ۔ بحث اس سوال پر تھی کہ کیا شادی کے بعد بیوی شوہر کی املاک یا جاگیر بن جاتی ہے ؟ اور اگر زنا جرم ہے ، تو سزا صرف مرد کو ہی کیوں ملے ، دونوں کو کیوں نہیں ؟ لیکن عدالت نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی اور دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں ۔
بھارت میں 2 غیر شادی شدہ بالغ اگر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں تو یہ پہلے سے ہی جرم نہیں ہے ۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو بھی جرم کے زمرے سے نکال دیا تھا ۔ بنچ میں شامل واحد خاتون جج جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ زنا اخلاقی طور پر غلط ہے لیکن جسٹس چندرچور نے کہا کہ شادی کے بعد مرد اور عورت اپنی جنسی خود مختاری ایک دوسرے کے پاس گروی نہیں رکھ دیتے ۔ مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت کا موقف تھا کہ اگر زنا کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس سے ہندوستانی اقدار اور شادی کی پاکیزگی کو زک پہنچے گی ۔
The post بھارتی سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے ملک میں زنا کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا appeared first on Urdu News.