بریکنگ نیوز! کلثوم نواز کو فالج کا دورہ بھی پڑ گیا، لندن سے افسوسناک خبر

اسلام آباد (نیوزڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی محمد مالک نے کہا کہ ہم سب کی دعا بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ہے لیکن ان کے بارے میں ہمیں ایک خبر ملی ہے کہ وہ بہت زیادہ بیمار ہو گئی ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے خاندانی ذرائع کے مطابق ان کو بدقمستی سے فالج بھی ہو گیا ہے۔ اب ڈاکٹرز کو فیصلہ کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کی انگلینڈ میں ایک کنونشن ہے جس کے مطابق تین ہفتے سے زائد اگر کسی مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا جائے تو حتمی فیصلہ ڈاکٹرز کا ہوتا ہے لیکن شاید یہ سرکاری اسپتالوں میں ہے پرائیویٹ اسپتالوں میں نہیں۔البتہ ہمیں ابھی تک ڈاکٹرز کی جانب سے کوئی بریفنگ نہیں آئی کہ بیگم صاحبہ کی اصل حالت کیا ہے۔خیال رہے کہ سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیر علاج ہیں۔ گذشتہ ہفتے موصول ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی طبیعت سے متعلق موصول ہونے والی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیگم کلثوم نواز کے جسم کے متعدد اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیگم کلثوم نواز کے گردے کام نہیں کر رہے۔ان کے گردوں کی تھیراپی ہو رہی ہے اور ان کی اینٹی بائیوٹک ہٹا دی گئی ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق کلثوم نواز کی حالت میں 3 دن میں بہتری آئی اور انہیں خوراک بھی دی جا رہی ہے۔ بیگم کلثوم نواز کو 13 جون کو قے آئی جس پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ۔ اسپتال منتقل کرنے کے بعد 14 جون کو بیگم کلثوم نواز کو ہارٹ اٹیک بھی ہوا۔واضح رہے کہ 25 جون کو احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دئے کہ آج ملزمان میں سے ایک بھی عدالت میں نظر نہیں آرہا جس پر وکیل نے بتایا کہ دونوں بیرون ملک ہیں اور اس حوالے سے درخواست بھی جمع کروائی گئی ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی 22 جون کی میڈیکل رپورٹ کے پرنٹ لینے ہیں۔نواز شریف اور مریم نواز کے وکیل کی جانب سے سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز میڈیکل رپورٹ آج احتساب عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ قبل ازیں موصول ہونے والی خبروں کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی لندن میں زیر علاج اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے ڈاکٹرز نے کہاہے کہ انہیں ادویات اور مصنوعی آکسیجن دینا کم کر رہے ہیں اور پیر یا منگل کو لائف سپورٹ مشین پر رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
کنسلٹنٹ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر میتھو برنارڈ نے شریف خاندان کو بیگم کلثوم نواز کی طبیعت کے حوالے سے بریفنگ اور حسن نواز،،، مریم نواز اور نواز شریف کے سوالوں کے جوابات دیئے کنسلٹنٹس کے مطابق گڈ نیوز از دیٹ دیئر از نو بیڈ نیوزیعنی اچھی خبر یہ ہے کہ کوئی بری خبر نہیں ہے۔ان کنسلٹنٹس کے بقول اب ہم کلثوم نواز کی میڈیسن کو بتدریج کم کر رہے ہیں ،اب بھی ان کو لائف سپورٹ مشین پر رکھیں گے ، لیکن دوائیں اور مصنوعی طریقے سے آکسیجن دینی بھی کم کر رہے ہیں۔کنسلٹنٹس نے بتایا کہ دماغ کے سکین سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کو نقصان نہیں پہنچا جو کہ مثبت بات ہے۔اس پر میاں نواز شریف کی تشویش تھی کہ جو ٹیوبز اور ماسک لگے ہوئے ہیں وہ کب اور کتنی جلدی ہٹیں گی۔ بی بی سی کے مطابق مریم نواز دماغ کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں جبکہ حسین نواز کے سوالات بھی اسی نوعیت کے تھے۔
اس دوران میاں نواز شریف چھوٹی سبز رنگ کی تسبیح کے ساتھ ورد کر رہے تھے جبکہ مریم اور ان کی دوسری بہن بھی وفقہ سوالات میں ورد کرتی نظر آئیں۔کنسلٹنٹس کے جوابات میں کہا گیا کہ سپورٹ مشین ہٹائے جانے کے بعد اسے دوبارہ لگانا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ کلثوم نواز محسوس کر سکتی ہیں اور سن بھی رہی ہوں گی جس کا وہ جواب دینے کی کوشش بھی کرتی ہیں لیکن ابھی وہ اس پر کنٹرول کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہمیں اس کا اندازہ ان کی دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر سے ہوتا ہے ، ہم دیکھیں گے کہ ان کا رسپانس کتنا بہتر ہے تاہم پہلے کے مقابلے میں جب وہ ختم ہو سکتی تھیں اب بہت بہتر ہیں۔ابتدا کے 72 گھنٹے خطرناک تھے’ شی کُڈ بی ڈیڈ۔ لیکن اب تصویر دوسری ہے ، ٹیوبز ہٹائے جانے یا بدلتے وقت انہیں قے یا الٹی نہیں ہونی چاہئیے جس کے لیے ہم ادویات دے چکے ہیں اور بھی دیں گے۔یاد رہے کہ 21مارچ کو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اطلاع دی تھی کہ کلثوم نواز کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں اور انھیں مصنوعی طریقے سے سانس دیا جا رہا ہے۔بیگم کلثوم نواز کو چند ماہ قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ اس وقت برطانیہ میں زیر علاج ہیں۔بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین مسلسل ان کے ساتھ ہیں تاہم ان کے شوہر اور ان کی بیٹی مریم نواز اسلام آباد کی احتساب عدالت سے اجازت ملنے کے بعد لندن پہنچے تھے ۔