کراچی(ویب ڈیسک) کراچی کے ہوٹل میں 5 بچوں سمیت 6 افراد کی ہلاکت زہریلے کیمیکل سے ہوئی جوکہ گیسٹ ہاؤس کے کمروں میں پایا گیا‘اسی زہریلے کیمیکل کے ذرات بریانی میں شامل ہوکر خاندان کی موت کا باعث بنے. نجی ٹی وی نے کراچی پولیس کی تفتیشی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ریسٹورنٹ سے قبضے میں لی گئی بریانی اور کھانے
پینے کے دیگر سامان میں المونیم فاسفائیڈ پایا گیا ہے.ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کوئٹہ سے متاثرہ خاندان 21 فروری کو کراچی کے لیے نکلا خضدار میں کھانا کھایا اور رات ساڑھے نو بجے کراچی پہنچے اور ہوٹل میں باہر سے کھانا لا کر کھایا.ڈی آئی جی کے مطابق 2 بجے فیصل نے دیکھا کہ اہلیہ زمین پر پڑی تھیں تو فوری ہسپتال منتقل کیا صبح بہن نے بتایا کہ بچوں کی حالت ٹھیک نہیں تو انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ڈاکٹروں نے بتایا کہ 3 بچے مردہ لائے گئے جبکہ 2 دوران علاج چل بسے واقعے کے اگلے دن بہن بھی دوران علاج انتقال کرگئی.انہوں نے بتایا کہ کمرہ نمبر 58 اے، نو بہار ریسٹورنٹ اور اسٹوڈنٹ بریانی کو سیل کیا گیا اور ایچ ای جے، سی ایس یو، فوڈ اتھارٹی اور ایس جی ایس لیب نمونے بھیجے. ہوٹل سے المونیم فاسفائیڈ کے نمونے لیے گئے‘ المونیم فاسفائیڈ انتہائی زہریلا کیمیکل ہے ‘نو بہار سے 20، اسٹوڈنٹ بریانی سے 7 نمونے حاصل کر کے بھیجے. شرجیل کھرل کے مطابق بچوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر کے نمونے پنچاب لیب بھیجے‘ قصر ناز کے چیف انجینیئر سمیت 55 سے زائد افراد کو شامل
تفتیش کیا تفتیش میں واضح ہوا المونیم فاسفائیڈ سے فیومی گیشن نہیں کی جاتی کیمیکل بطور فیومی گیٹر گھروں میں استعمال نہیں ہوسکتا.انہوں نے بتایا کہ قصر ناز انتظامیہ نے فیومی گیشن پر کوئی نظام نہیں رکھا تھا، کمرے کے اندر کیمیکل سے متعلق ماہرین سے پوچھا ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرے میں کیمیکل استعمال نہیں کرنا چاہیئے کیمیکل بہت خطرناک ہے اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے 6 سال سے یہ لوگ کیمیکل استعمال کرتے رہے. ڈی آئی جی کے مطابق یہ کیمیکل زیادہ تر سبزے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسپرے جہاں ہو وہ کمرہ 24 گھنٹے استعمال نہیں کرنا چاہیئے.شرجیل کھرل نے کہا کہ تفتیش کا نچوڑ ہے کہ بچے جب سوئے تو دوا کا ری ایکشن ہوا نو بہار بریانی کے ڈبوں سے بھی پاؤڈر ملا پاؤڈر اور کیمیکل بریانی کے ذریعے پیٹ میں گیا سارا واقعہ کوتاہی سے رونما ہوا. انہوں نے کہا کہ واقعے میں قصر ناز کے عملے کے 9 افراد کی کوتاہی ہے، کسی اور کی ذمہ داری پائی گئی تو انہیں بھی شامل تفتیش کیا جائے گا‘ چیف انجینیئر ندیم اختر سمیت 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا تفتیش چل رہی ہے اور ملزمان 14 روزہ ریمانڈ پر ہیں.اس سے قبل واقعے کی جاری کی
جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موت کا سبب بریانی نہیں بلکہ کمرے میں کیا جانے والا زہریلا کیمیکل اسپرے ہے‘رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ قصر ناز میں فیومی گیشن سمیت تمام امور کی ذمہ داری پی ڈبلیو ڈی کی ہے ساتھ ہی بچوں کی موت کا سبب زہریلا کیمیکل المونیم فاسفیٹ بغیر ٹینڈر خریدے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا. سانحے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی کے انجینئرز اور عملے نے مروجہ طریقہ کار کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تھیں المونیم فاسفیٹ بغیر محکمہ جاتی منظوری کے خریدا گیا.یاد رہے کہ شہر قائد میں 22 فروری کو ریسٹورنٹ کا مضر صحت کھانا کھانے سے ایک ہی خاندان کے 5 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے‘بعد ازاں پولیس اور فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے نو بہار ریسٹورنٹ اور قصر ناز گیسٹ ہاؤس سے بریانی، دودھ اور دیگر کھانے کی اشیا کے نمونے اکٹھے کیے اور ہوٹل سیل کر کے 18 ملازمین کوحراست میں لیا تھاجن سے تحقیقات کی جارہی ہے. جاں بحق بچوں میں ڈیڑھ سال کا عبدالعلی، 4 سال کا عزیز فیصل، 6 سال کی عالیہ، 7 سال کا توحید اور 9 سال کی صلویٰ شامل تھے جبکہ ان کی 28 سال کی پھپھو بھی
دم توڑ گئیں تھی متاثرہ خاندان کوئٹہ سے کراچی آیا تھا.
The post بریانی زہریلی نہیں تھی۔۔۔کراچی ،گیسٹ ہاؤس میں بچوں سمیت 6 افراد کی موت کی افسوسناک وجہ سامنے آگئی appeared first on Urdu News.