برازیل کے معروف شہر ریو دی جنیرو میں قائم ملک کے قدیم ترین سائنسی ادارے نیشنل میوزیم میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث ہر چیز جل کر راکھ ہوگئی ۔ برازیل کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ آگ دن میوزیم کے بند ہونے کے بعد بھڑکی اور پھر پوری عمارت میں پھیل گئی ۔ آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی علم نہیں ہو سکا ہے ۔ برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر نے ایک ٹویٹ میں اسے برازیل کے تمام باشندوں کے لیے ‘ افسوسناک دن ‘ قرار دیا ہے ۔
اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری تاریخ کی قدر اس عمارت کو ہونے والے نقصانات سے نہیں جانچی جا سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس میوزیم میں برازیل اور مصر سمیت دوسرے ممالک کی تواریخ سے متعلق ہزاروں نادر اشیا رکھی ہوئی تھیں ۔ اس میوزیم کے قدرتی تاریخ کے ذخائر میں ڈائنوسار کی ہڈیاں اور ایک خاتون کی 12000 سال پرانا ڈھانچہ رکھا ہوا تھا ۔ یہ ڈھانچہ امریکی براعظموں پر دریافت ہونے والا قدیم ترین ڈھانچہ تھا ۔ اس سے قبل میوزیم کے ملازمین نے فنڈ میں کٹوتی اور عمارت کی خستہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔