پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 میں ہونے والی دوبارہ گنتی پر بھی اعتراض اٹھا دیا ۔ لاہورہائیکورٹ کے حکم پر این اے 131 کے ریٹرننگ افسر اختر حسین بھنگو کو صبح دوبارہ گنتی کا آغاز کرنا تھا مگر الیکشن کمیشن سے ووٹوں کے بیگز تاخیر سے پہنچنے کے باعث دوبارہ گنتی تاخیر سے شروع ہوئی ۔ رات 8 بجے تک ووٹوں کے 5 بیگز کی گنتی ہوسکی تھی جس کے بعد گنتی اگلے روز تک کیلئے ملتوی کردی گئی ۔ اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہائیکورٹ نے 3 دن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی مکمل کرنے کا کہا ہے مگر ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ مکافات عمل کا آغاز ہوچکا ہے ، عمران خان لمبی لمبی چھوڑنا اور جھوٹ بولنا بند کریں ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شعیب صدیقی کا کہنا ہے کہ دوبارہ گنتی میں اب تک صرف چار بیلٹ پیپر متنازع نکلے ہیں ، صرف دستخط نہ ہونے پر بیلٹ پیپر منسوخ نہیں کیا جا سکتا ۔ این اے 131 میں گنتی کا عمل صبح دوبارہ شروع ہو گا ۔ خیال رہے کہ این اے 131 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق ، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور دیگر امیدوار میدان میں تھے ۔ الیکشن کمیشن نے سعد رفیق کی درخواست کی وجہ سے اس حلقے سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا ہے ۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان نے این اے 131 لاہور سے 84 ہزار 313 ووٹ لیے اور کامیاب قرار پائے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے 83 ہزار 633 ووٹ لیے ۔