’’ اگرمیں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو نیب تحقیقات کرے ، حکومت میرا معاملہ نیب میں بھیج دے ‘‘ ، سینیٹر مشاہد اللہ خان

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ اگرمیں نے کوئی غلط کام کیا ہے تونیب تحقیقات کرے ، حکومت میرا معاملہ نیب میں بھیج دے ، اگریہ الزامات ثابت کردیں توسینیٹ سےاستعفیٰ دے دوں گا ۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگرمیں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو نیب تحقیقات کرے ، پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے ، حکومت نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فواد چودھری نے مجھ پر بےبنیاد الزامات لگائے ہیں ، میں نے پی آئی اے سے ایک روپے کا علاج نہیں کروایا ، میراعلاج پی آئی اے نہیں حکومت پاکستان نے کرایا ، میری تقریروں کے بعد یہ انتقامی کارروائیوں پراترآئے ہیں ، اگرمیں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو نیب تحقیقات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پی آئی اے کوچھوڑے ہوئے 20 سال ہوچکے ہیں ، حکومت میرا معاملہ نیب میں بھیج دے ، اگریہ الزامات ثابت کردیں توسینیٹ سےاستعفیٰ دے دوں گا ۔
انہوں نے کہا کہ مجاہد اللہ میرے بھائی ہیں وہ کبھی پی آئی اے میں نہیں رہے ، اس وقت میرا صرف ایک بھائی پی آئی اے میں ہے ، میرے بھائی 40 سال پہلے پی آئی اے میں بھرتی ہوئے تھے ، میرے 3 بھائی پی آئی اے سے پہلے ہی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ الیکشن شفاف ہوتے تو پی ٹی آئی اپوزیشن میں ہوتی جبکہ گرتی ہوئی معیشت کی ذمہ دار(ن) لیگ کو قرار نہیں جا سکتا ۔
عمران خان نے کہا تھا حکومت میں آئے تو 200 ارب ڈالرآ جائیں گے ، اب بتایا جائے وہ 200 ارب ڈالر کہاں ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بنی گالا میں ناجائزتعمیرات کیں ہیں ، نئے پاکستان میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ، خیبرپختونخوا میں 5 ہزاردرخت بھی نظرنہیں آتے ۔ سینیٹر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس نوازشریف کے نام پرنہیں ہیں ، لندن فلیٹس جب خریدے گئے ان کی مالیت 12 کروڑتھی ۔
The post ’’ اگرمیں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو نیب تحقیقات کرے ، حکومت میرا معاملہ نیب میں بھیج دے ‘‘ ، سینیٹر مشاہد اللہ خان appeared first on Urdu News.