اپوزیشن اور حکومتی ارکان دونوں کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال قابلِ مذمت ہے ، گالم گلوچ سے قوم میں مایوسی پیدا ہوئی ، صدر مسلم لیگ ن و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کے لیے ضابطہ اخلاق تشکیل جانے کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا گیا جو قابل مذمت ہے ، کس نے پہلے الزام لگایا اور بدلے میں کیا کہا گیا ؟ اگر اس کی تفصیل میں گیا تو معاملہ مزید الجھ جائے گا ، جمہوریت اور آئین کی خاطر رویوں میں تبدیلی ضروری ہے ۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد جمہوریت اور آئین کی خاطر رویوں میں تبدیلی ضروری ہے اور میں وزیر دفاع کی تجویز کی تائید کرتا ہوں کہ اراکین قومی اسمبلی کے لیے ضابطہ اخلاق تشکیل دیا جائے ۔ شہباز شریف نے تجویز دی کہ ایک ’اخلاقیات کمیٹی‘ بنائی جائے جس میں تمام جماعتوں کے ارکان شامل ہوں ۔ انہوں کا کہا کہ بغیرثبوت کے بیانات دینا جمہوریت کی خدمت نہیں ہے ، قومی اسمبلی میں کچھ دنوں سے دونوں جانب سے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی جا رہی ہے ۔
گالم گلوچ سے صرف ذاتی تسکین ہوتی ہے ، تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو پارلیمانی زبان کے استعمال پر زور دیا جائے ، حقائق کا سہارا لیا جائے اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے اور ہمیں تعمیری باتیں کرنی چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں گالم گلوچ سے قوم میں مایوسی پیدا ہوئی ہے ، ہم ایوان میں جمہوری روایات کو فروغ دینےآئے ہیں ، حکومت اوراپوزیشن ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں ، ملک کے روشن مستقبل کے لیے سب کو تجاویزدینا ہوں گی ۔
The post اپوزیشن اور حکومتی ارکان دونوں کی جانب سے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال قابلِ مذمت ہے ، گالم گلوچ سے قوم میں مایوسی پیدا ہوئی ، صدر مسلم لیگ ن و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف appeared first on Urdu News.