سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ، کیس کی سماعت دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاء افسرہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم ؟ ہم توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی ، جس میں اٹارنی جنرل ایک مرتبہ پھر پیش نہیں ہوئے اور عدم حاضری پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ فیض آباد دھرنا کیس کی گزشتہ سماعت پر بھی اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوئے تھے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے ۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اٹارنی جنرل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں ۔ اس پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل ماہر معاشیات ہیں ؟ ای سی سی کے اجلاس میں ان کا کیا کام ؟ اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاء افسر ہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم ؟ ہم توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں ۔ معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل اور ججز سمیت ہر کوئی ریاست کا ملازم ہے ، کیا وزیراعظم سپریم کورٹ سے بالا ہیں؟ وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو کہا اور وہ منہ اٹھا کر چل دیے ، اٹارنی جنرل کو وزیراعظم کو بتانا چاہیے تھا کہ انہیں عدالت میں پیش ہونا ہے ، اٹارنی جنرل کو وزیراعظم سے معذرت کرنی چاہیے تھی ۔
The post اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاء افسر ہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اٹارنی جنرل آف پاکستان پر اظہارِ برہمی appeared first on Urdu News.