برطانیہ (نیوز ڈیسک ) گذشتہ روز نیوزی لینڈ میں سفید فام دہشت گرد نے دو مساجد پر حملہ کیا اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے 50 مسلمانوں کو شہید کر دیا ۔پر امن طریقے سے عبادت گاہوں میں نماز ادا کرنے والوں کو گولیاں کا نشانہ بنانے کے بعد کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں کہ کیا امن کی بات کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ہو گا؟۔اس واقعے کے بعد دیگر ممالک میں بھی مسلمان خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگ گئے جب کہ کئی ممالک میں مساجد کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔کئی ممالک میں نیوزی لینڈ حملے میں شہید ہونے والے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کی جا رہی ہے۔دنیا کے مغربی ممالک کے لوگوں نے بھی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔جب کہ اس دوران ایک برطانوی شخص کی تصویر نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک شخص کی تصویر وائرل ہوئی جس میں وہ بینر اٹھائے ایک مسجد کے باہر کھڑا ہے۔جب کہ بینر پر لکھا کہ آپ سب میرے دوست ہیں،تم نماز ادا کرو میں تمہاری حفاظت کروں گا۔مذکورہ شخص کا تعلق مانچسٹر سے ہے۔57 سالہ اینڈرو گریسٹون کا کہنا ہے کہ جب میں نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کی خبر سنی تو میں بہت پریشان ہوا اور سوچا کہ آج مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کرنا ہو گی اور انہیں بھی حملے کا ڈر ہو گا لہذا میں نے سوچا کہ میں ان کی حفاظت کروں گا۔جس کے بعد وہ ایک بینر اٹھا کر مسجد کے باہر کھڑا ہوگیا اور مسلمانوں کو پیغام دیا کہ آپ میرے دوست ہیں آپ عبادت کرے اور میں آپ کی حفاظت کروں گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جب لوگوں نے مجھے مسجد کے باہر دیکھا تو کچھ لوگوں نے سوچا کہ شاید یہ احتجاج کر رہا ہے لیکن پھر انہوں نے میرا مسکراتا چہرہ دیکھا اور مطمئن ہوئے۔جب مسلمان مسجد سے باہر آئے تو ان میں سے کئی لوگ بہت جذباتی تھے اور مجھ سے ہاتھ ملانا چاہ رہے تھے۔کچھ لوگوں نے مجھے چکن بریانی بھیجی۔اینڈرو کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں تمام لوگ محبت کرنے والے اور پرامن ہیں جب کہ دہشت گرد کاروائیاں کرنے والوں کی تعداد معاشرے میں تھوڑی سی ہے۔مسلم نمازیوں نے تالیاں بجا کر برطانوی شخص کے اقدام کو سراہا۔
The post ’’ آپ نماز پڑھو ! دہشت گردوں کو میں دیکھ لونگا‘‘ 65 سالہ برطانوی شہری نے یگانگت کی اعلیٰ مثال قائم کر دی، مسجد کے باہر نمازیوں کی حفاظت کے لیے پہنچ گیا appeared first on Urdu News.