امریکی پابندیوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا ایران کے حق میں فیصلہ ، امریکہ کا جوابی اوچھا وار

عالمی عدالت انصاف کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی انسانی ضروریات پورا کرنے والی اشیاء اور سفری پابندیاں اٹھانے کے عبوری حکمنامے کے بعد ٹرمپ حکومت نے ایران کے ساتھ 1955 کے اس معاہدے کو ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے اور جس کی بنیاد پر عالمی عدالت انصاف نے ایران کے حق میں بڑا فیصلہ دیا تھا ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ہنگامی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ٹرمپ حکومت نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے تہران پر عائد کی جانے والی کچھ پابندیاں اٹھانے کے حکم کے بعد ایران کے ساتھ کئی عشرے قبل طے پانے والا معاہدہ ختم کر دیا ہے ، اس فیصلے کا اعلان 39 برسوں سے التوا میں پڑا ہوا تھا ۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران امریکہ کی خودمختاری کے حق میں مداخلت کررہا ہے اور ہمارے لیے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قانونی اقدامات کرنے ضروری ہیں ، ایران بین الاقوامی عدالت انصاف کو سیاسی اور پراپیگنڈے کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی عدالت انصاف نے اپنے عبوری حکمنامے میں آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر عائد ان پابندیوں کو فوری ہٹا لے جن کی وجہ سے ایران میں ضروریات زندگی ادویات ، خوراک اور طیاروں کے پرزوں کی درآمدات روکنے کی وجہ سے انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں ۔
امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں شہری ہوا بازی کی سلامتی خطرے میں ہے جبکہ امریکی اقدامات سے خوراک ، ادویات اور طبی آلات پر پابندیوں کی وجہ سے ایرانی شہریوں کی زندگی اور صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں ایران نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ امریکہ نے 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت اٹھائی گئی پابندیاں دوبارہ لگا کر 1955 کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس پر عالمی عدالت انصاف نے عبوری حکمنامہ جاری کیا تھا تاہم اب امریکہ نے ایران کے ساتھ 1955 کے اس معاہدے کو ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے ۔
The post امریکی پابندیوں کے خلاف عالمی عدالت انصاف کا ایران کے حق میں فیصلہ ، امریکہ کا جوابی اوچھا وار appeared first on Urdu News.