اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )میرانام ڈسٹن ہے اورمجھے سفرکرنااچھالگتاہےمیں دنیابھرمیں سفرکرتاہوں اوراب بھی سفرکررہاہوں۔میرے سفرکرنے کاایک مقصدسٹیروٹائپ سوچ کاخاتمہ ہےجس کی وجہ سے سفرکرنے سے زیادہ محبت ہوگئی ہے۔کئی دفعہ ہم ایسی جگہوں پرجاتے ہیں جن کے بارے میں ہمارے ذہن میں ایک تخیلاتی خاکہ موجودہوتاہے۔میں اکثرایسے ممالک میں جاتاہوں جوسیاحت کے لیے مشہورہوتےہیں۔
میں پاکستان دوسری مرتبہ آیاہوں بدقسمتی سےاس ملک میں اتنی سیاحت نہیں لیکن میرے لیے ایک سیاح کے طورپریہ خوش قسمتی ہے کہ میرے لیے یہ بہت شانداررہامیراتعلق امریکہ سے ہے میں پہلی دفعہ تین سال پہلے پاکستان آیااورمیں ڈراہواتھاجبکہ پاکستان کاویزہ بھی مشکل تھالیکن دنیاکاہرملک گھومنے کی وجہ سے پاکستان کاویزہ لگوانے میںکامیاب ہوگیااورفیصلہ کیاکہ میں صرف دن کی روشنی میں ہی گھوموں گامیں صبح سات بجے یہاں پہنچااورواپسی کی پرواز شام آٹھ بجے تھی میں کسی تاریک یاخطرناک جگہ پرنہیں گیاتھا
یہ میراپہلادورہ تھامیں اسلام آبادگیاوہاں دورہ کیاوہاں ٹورکمپنی کے ساتھ معاملات نہیں چل سکے تووہاں ایک دوست ملااس نے کہاکہ ہمارے ساتھ چلیں ایک مقامی گھرگیاجہاں کچھ لڑکے تھےانہوں نے موٹرسائیکل پکڑی اورسارادن مجھے شہرگھماتے رہےیہ بالکل خطرناک نہیں تھاانتہائی حیران کن تجربہ تھااورسب کچھ معمول کے مطابق تھااب میں دوسری مرتبہ مزیدکچھ دیکھنے پاکستان آیاہوں اوریہ سب کچھ محبت کی وجہ سے ہے۔وہ ایک سٹیریوٹائپ سوچ ہی تھی کہ یہ خطرناک ہوگالیکن وہ بالکل ہی غلط سوچ تھی یہ ملک بالکل محفوظ ہےپاکستانی لوگوں کی مہمان نوازی بھی بہت شاندارہےمیرے لیے یہ یقین کرنامشکل ہے کہ وہ مجھے کسی چیز کے لیے پیسے بھی اداکرنے نہیں دیتے
The post امریکی سیاح جو تین سال قبل ڈر ڈر کر پاکستان آیا تھا اب دوبارہ آیا تو اس کے خیالات کیا ہیں،جانیں appeared first on Urdu News.