افغانستان کے صوبے قندھار میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں صوبائی پولیس چیف اور خفیہ ایجنسی کے مقامی چیف ہلاک اور گورنر شدید زخمی ہوگئے ۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق گورنر کمپاؤنڈ میں ہونے والے اجلاس میں افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر بھی شریک تھے ۔ فائرنگ سے صوبائی پولیس چیف جنرل عبدالرازق اور افغان خفیہ ایجنسی کا مقامی چیف ، ایک صحافی ہلاک اور گورنر قندھار شدید زخمی ہوئے ۔
عبدالرازق کو 2011 میں ہونے والے خود کش حملے میں خان محمد مجاید کی ہلاکت کے بعد پولیس چیف تعینات کیا گیا اور ان پر متعدد حملے ہو چکے ہیں ۔ اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان پر 29 بار حملے ہو چکے ہیں ۔ افغان میڈیا کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب افغان اور امریکی حکام گورنر ہاؤس سے ہیلی پیڈ کی جانب جا رہے تھے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ صوبائی گورنر کے ایک باڈی گارڈ نے کیا تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی گئی ۔
افغان سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی مارا گیا ۔ نیٹو ترجمان نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں امریکی جنرل اسکاٹ ملر محفوظ رہے ۔ ترجمان کے مطابق قندھار کمپاؤنڈ میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ایک امریکی اہلکار اور ایک امریکی شہری زخمی بھی ہوئے ۔ دوسری جانب طالبان نے قندھار کے گورنر کمپاؤنڈ میں حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ امریکی میڈیا کے مطابق طالبان کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ امریکی جنرل اسکاٹ ملر تھے ۔
The post افغان صوبے قندھار میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد فائرنگ ، صوبائی پولیس چیف اور خفیہ ایجنسی کے مقامی چیف ہلاک اور گورنر شدید زخمی ہو گئے appeared first on Urdu News.