اس مقصد میں کامیاب ہو گیا تو سیاست کو خیرباد کہہ دوں گا،جہانگیر ترین نے بڑا اعلان کردیا

لودھراں(نیوزڈیسک) جہانگیر ترین نے خود میدان میں اتر کر تحریک انصاف کے امیدواروں کیلئے الیکشن مہم چلانے اعلان کردیا ہے۔ جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ نااہلی ہونے کے بعد مایوسی ہوئی، لیکن جدوجہد کا مقصد عمران خان کو وزیراعظم بنوانا ہے۔ عمران خان کو وزیراعظم بنوانے کے بعد سیاست کو خیر آباد کہہ دوں گا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیرترین اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔جہانگیر ترین نے لودھراں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں بطور عام کارکن کام کررہا ہوں۔ میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ ہرحلقے سے جیت کرعمران خان کووزیراعظم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر دکھ ہوا لیکن فورا فیصلہ تسلیم کیا۔ پی ٹی آئی میں نہ کوئی عہدہ مل سکتا ہےنہ میں کوشش کررہا ہوں۔ پی ٹی آئی میں ویسے کھڑا ہوں جیسے پہلے کھڑا تھا اور محنت کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں کسی کیخلاف بات کرنا پسند نہیں کرتا،،شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی، پریس کانفرنس دیکھ کرجواب دوں گا۔ جہانگیرترین نے کہا کہ دھرنے کی سیاست ہم نے پاکستان میں شروع کی۔ہم دھرنے کی سیاست کوبرا نہیں سمجھتے ہیں۔ جہانگیرترین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کاکام ہے کہ اثاثوں کی تصدیق بھی کرے۔ نوازشریف سرکاری جہازاستعمال کرتے تھے۔عمران خان جس جہازمیں عمرےپرگئے وہ سرکاری نہیں تھا۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزارت خارجہ ٹھکرائی، قومی اسمبلی کی نشست ٹھکرائی، نظریے کا سودا کرنے کیلئے یہ سب نہیں ٹھکرایا۔
انہوں نے ایک سوال آپکی اورجہانگیرترین کی سردجنگ سے پارٹی کونقصان ہورہاہے؟ کے جواب میں کہا کہ خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں۔جوکھیل میں ہی نہیں، الیکشن ہی نہیں لڑسکتا، الیکشن گیم سےباہرہے اس سے کیوں جھگڑوں؟ مجھے ان کارکنوں کا احساس ہے جو احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج کارکن کررہےہیں میں تو نہیں کرارہا۔ ایسا کون کررہا ہے؟ کون انکی سفارش کررہا ہے؟ کون ملاقاتیں کراتا ہے،وہ کیوں اون نہیں کرتے؟ ان میں اتنی اخلاقی جرات کیوں نہیں کہ مانیں کہ ہم سکندر بوسن کو لارہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا۔حق مانگنا ہر کسی کا حق ہے فیصلہ کرنا پارٹی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی فیصلہ کرےگی۔ عمران خان فیصلہ کریں گے خوا وہ میرےعزیزکے حق میں ہویا خلاف ہو۔ درخواست دینا، دلائل دینا ہر کسی کا حق ہے، فیصلہ تسلیم کرنا پارٹی کا ڈسپلن ہے۔ کہنے کاحوصلہ ہونا چاہیے کہ سکندربوسن کوکون لانا چاہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عائشہ جٹ بی بی کو صوبائی ٹکٹ کس نےدلوایا،کیامیں نے دلوایا؟ عائشہ جٹ کو ضمنی الیکشن کس نے لڑوایا؟ کیا میں نے لڑوایا؟ شاہ محمود نے مزید کہا کہ میں تو عائشہ کے ضمنی الیکشن میں بھی موجود نہیں تھا۔حقائق کو حقائق بنا کر پیش کریں۔ نذیر جٹ نے اگر بات کی ہے تو اپنے بل بوتے پر کی ہے۔ نذیرجٹ کی اپنی ایک سوچ،سیاسی حیثیت اور ایک نام ہے۔ میری اس میں کوئی شرارت نہیں ہے۔ نہ بدنیت ہوں نہ شرارتوں کا عادی ہوں،سازشی مزاج کا بندہ نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہےاللہ دلوں کے رازجانتا ہے،اللہ حقائق پہچانتا ہے۔ میں آپ سے فریب کرسکتا ہوں،کیا اللہ سے کرسکتا ہوں؟ کیا میں اللہ سے جعلسازی کرسکتا ہوں؟