اب وقت آگیا ہے کہ۔۔۔پاکستان نے امریکا کو ایسی پیشکش کر دی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی خوشی سے جھوم اٹھی

واشنگٹن(نیوزڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں. واشنگٹن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان دفتر خارجہ کی جانب سے اس ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو باہمی مفادات کے حوالے سے وسیع البنیاد سطح پر بات چیت کرنی چاہیے اور اس ضمن میں منظم فریم ورک کی ضرورت ہے..
واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر میںہونے والی ملاقات میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اورسفیرعلی جہانگیرصدیقی بھی شریک تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کرتا ہے وہاں طاقت کا استعمال بے نتیجہ ثابت ہوا ہے. بیان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں مکمل امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر بھی بات کی. اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان پومپیو نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی نئی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہے۔دونوں راہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وقت آ گیا ہے ۔
کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع کا فائدہ اٹھائیں. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات ہمیشہ باہمی فائدے اور جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے ہیں. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی حکومت افغان طالبان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے جس سے افغان طالبان کا پاکستانی سرحد پر اثر و رسوخ ختم ہو۔اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی کی سلامتی امور کے مشیر جان بولٹن سے بھی ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا. پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن سے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی زیر قیادت افغانیوں کے درمیان مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا. شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن کو خطے میں بڑھی ہوئی بھارتی جارجیت سے متعلق آگاہ کیا. وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی امن کی دعوت کا مثبت جواب دے کر بھارت قیادت داخلی سیاست کا شکار ہو گئی. دونوں ملکوں کے وزراءخارجہ کی ملاقات میں پاک امریکا تعلقات کی تعمیر نو سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔اس ملاقات کی دعوت مائیک پومپیو نے دورہ پاکستان کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دی تھی. ملاقات میں پاک بھارت کشیدگی، افغانستان کے مسئلے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت ہوئی.
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹر لنڈسے گراہم سے ملاقات کی جس میں افغانستان کے معاملات کے ساتھ ساتھ پاک، امریکا تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی سینیٹر نے قبائلی علاقوں میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی پیش رفت کو سراہا. ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی سینیٹر کوری بوکر سے ملاقات کی ہے. ملاقات میں علاقائی صورتحال پر گفتگو ہوئی. سینیٹر کوری بوکر نے کہا پاکستان میں تبدیلی سے علاقے میں امن کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔دریں اثناءوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ۔
کہ پاکستان اور امریکا طویل عرصہ سے ایک دوسرے کے اتحادی ہیں اور انہیں اپنے مضبوط باہمی تعلقات کی از سر نو تعمیر کرنی چاہئے، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کو تیار ہے. امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔شاہ محمودقریشی نے امریکی حکام سے ملاقاتوں میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے حمایت کرتاہے،،پاکستان اورامریکاافغانستان سمیت خطے میں امن واستحکام کے خواہاں ہیں.
وزیر خارجہ نے کہا کہ وسیع البنیاداوراسٹرکچرڈفریم ورک کے تحت ڈائیلاگ دونوں ممالک کے مفادمیں ہے،پاک امریکاقریبی تعلقات خطے کے استحکام کاایک عنصرہے،پاک امریکاقریبی تعلقات سے دونوں ممالک کوہمیشہ فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کاحل ضروری ہے،جنوبی ایشیامیں امن امریکااورپاکستان کامشترکہ مقصدہے،طاقت کے استعمال سے نتائج حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے. امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ریفارمزایجنڈےپرعملدرآمدکے لیے نئی پاکستانی حکومت کےساتھ کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
The post اب وقت آگیا ہے کہ۔۔۔پاکستان نے امریکا کو ایسی پیشکش کر دی کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی خوشی سے جھوم اٹھی appeared first on Urdu News.