اب بھی کہو کہ ’’ پی ٹی آئی میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی ایک دوسرے کے مخالف ہیں ‘‘، عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو ایسی ذمہ داری سونپ دی احتجاج کرتی ’ گرینڈ اپوزیشن ‘بھی دنگ رہ گئی

اب تک حکومت سازی کے عمل کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں ۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دو اہم رہنما جہانگیر ترین اورشاہ محمود قریشی اسلام آباد سے کوئٹہ روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اخترمینگل اوربلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال سے ملاقاتیں کریں گے،ملاقات میں بلوچستان اور وفاق میں حکومت سازی کے موضوع پر گفتگو ہو گی،جہانگیرترین اورشاہ محمودقریشی آج ہی واپس اسلام آبادپہنچیں گے۔واضح رہے پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں کامیابی کے بعد سے اب تک جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور نمبر گیم کے مکمل ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ملاقاتوں کا اور حمایت لینے کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل خبریں آنا شروع ہوئیں تھیں کہ اختلافات پھر سامنے آگئے،
جہانگیر ترین کو پنجاب میں حکومت سازی کیلئے آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانے کا ٹاسک ملا تو جہانگیر ترین نے سلمان نعیم سے بھی ملاقات کی، جس نے حلقہ پی پی 217 پر شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود اس بات پر غصہ ہیں کہ جہانگیر ترین ایسے آزاد امیدوا سے کیوں ملے؟، جسے پارٹی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی سے نکالا گیا۔انتخابی مہم کے دوران بھی دونوں رہنماؤں کے اختلافات خبروں میں رہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماء نعیم الحق نے سینئر رہنماؤں میں اختلافات کی تردید کردی۔پی ٹی آئی وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے دیگر امیدواروں کو اپنی جانب راغب کر رہی ہے، ایسے میں سینئر رہنماؤں کو ایک پیج پر لانا بھی پارٹی قیادت کیلئے بڑا امتحان ہے۔