اسلام آباد (اُردو نیوز) آسیہ بی بی کی بجائے عاصیہ مسیح سے متعلق معاہدہ قانونی چال ہے یا مظاہرین کو خوش کرنے کی حکمت عملی،فیصلہ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔تفصیلات کے مطابق 3 دن تک شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کے بعد حکومت اورمظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا

5نکاتی معاہدے کے بعد حکومت اور مظاہرین میں اتفاق پایا گیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل میں حائل نہیں ہو گی۔ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔حالیہ مظاہروں میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔معاہدے میں طے پایا ہے کہ گرفتار کئیے جانے والے کارکنان کو رہا کیا جائے گا۔تحریک لبیک کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سارے واقعے میں اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو تحریک کے قائدین اس پر معذرت خواہ ہیں۔
اس معاہدے کے طے ہونے پر جہاں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے وہیں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کی تصویری کاپیاں شئیر کی جارہی ہیں اور یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے آخرکار یہی کچھ کیا جانا تھا تو 3 دن عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنانے کا مقصد کیا تھا۔سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا یہ ہے وزیر اعظم عمران خان کا طرز حکومت کہ جس کو انہوں نے چھوٹا سے طبقہ کہا بعد میں خود ہی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے اور ان کے سارے مطالبات کو من و عن تسلیم کر لیا گیا۔
عوام نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ شرمناک اور حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس معاہدے میں ایک چیز جو ہر زیرک شخص کی جانب سے محسوس کی جارہی ہے وہ آسیہ بی بی کے نام ی تبدیلی ہے۔مذکورہ معاہدے میں آسیہ بی بی کا نام عاصیہ مسیح تحریر کیا گیا ہے۔اب نام کی اس تبدیلی کے دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ایک پہلو تو یہ ہے کہ حکومت مظاہرین کے ہاتھوں اس قدر مجبور تھی کہ اس نے خاتون کا نام ہی تبدیل کیا اور مظاہرین کی دلی تسکین کے لیے اسے ”عاصیہ” لکھا جس کے معنی ہیں ”گنہگار” کے۔
واضح ہو کہ مظاہرین کی جانب سے اس خاتون کے لیے اکثر مطعون قسم کے القابات استعمال کئیے جاتے رہے ہیں جنہیں معاہدے میں لکھنا مناسب نہ تھا شائد اس لئیے آسیہ بی بی کو عاصیہ مسیح لکھا گیا تاکہ مظاہرین کی دلوں کو تسکین پہنچے۔بظاہر نام کی یہ تبدیلی حکومت کی ناکامی نظر آتی ہے۔ویسے تو اسے ٹائپنگ ایرر بھی کہا جارہا ہے جس کا امکان انتہائی کم ہے کیونکہ اتنے اہم موضوع پر لکھے جانے والے معاہدے پر ٹائپنگ ایرر سمجھ سے بالا تر ہے۔
تاہم معاہدے کا ایک فریق تو شائد آسیہ کو عاصیہ لکھوا کر مطمئن ہو تاہم نام کی اس تبدیلی کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کے سچ ثابت ہونے پر تحریک لبیک اور مظاہرین کے ذمہ داروں میں کھلبلی مچ سکتی ہے اور وہ یہ کہ قانونی طور پر یہ معاہدہ کسی عاصیہ مسیح کے لیے ہے اور اسی کے خلاف اپیل دائر ہونی ہے اور اسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے ہے۔
تاہم نام کی تبدیلی نے یہ سارا معاملہ کھٹائی میں ڈال دیا ہے، معاہدے کی رو سے حکومت نے عاصیہ مسیح کو لے کر یہ معاہدہ کیا ہے نہ کہ آسیہ بی بی کو لے کر۔اگر یہ پہلو سچ ہو تو حکومت اپنی چال چلنے میں کامیاب رہی ہے۔حکومت اگر اس معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے آسیہ بی بی کے خلاف قدم نہ بھی اٹھائے تو بھی وہ اس معاہدے کو قانونی طور پر استعمال کر سکتی ہے۔
نام کی یہ تبدیلی حکومت کو قانونی گنجائش فراہم کر سکتی ہے کیونکہ تحریک لبیک اور حکومت کے مابین عاصیہ مسیح سے متعلق معاہدہ ہوا نہ کہ آسیہ بی بی سے متعلق جو اسکا قانونی نام ہے ۔عاصیہ مسیح نامی کوئی خاتون وجود ہی نہیں رکھتی ۔اب نام کی یہ تبدیلی مظاہرین کو خوش کرنے کے لیے تھی یا واقعی حکومت نے مظاہرین کے ساتھ قانونی چال چل دی ہے اس کا اندازہ تو آنے والے وقت میں ہی ہو سکے گا۔
The post آسیہ کی بجائے عاصیہ۔۔۔۔۔۔۔ نام کی تبدیلی نے سوالات کھڑے کر دئیے appeared first on Urdu News.