کہتے ہیں کہ اگر آپ اچھے مصنف بننا چاہتے ہیں تو، سب سے پہلے ایک اچھا ریڈر بنیں عائشہ ایس خان، کشمیر کی سب سے کم عمر لڑکی مصنفہ.
ہمیں اپنے بارے میں بتائیں ؟
میرے والد نے میرا نام عائشہ رکھا. اُس کے بعد سے میری نطر میں یہ دنیا کا سب سے خوبصورت نام ہے جو ایک لڑکی کا ہو سکتا ہے. میرے قلم کا نام عائشہ ایس خان ہے. میرا تعلق آزاد کشمیر کے شہر مظفرآباد سے ہے جو آزاد کشمیر کا دارالحکومت شہر ہے. میری عمر 22 سال ہے اورمیں مظفرآباد یونیورسٹی کی بی ایس (انگریزی زبان اور ادبیات) کی طالب علم ہوں.
کشمیر کی سب سے کم عمر مصنف بننے پر آپ کے احساسات کیا تھے؟
ظاہر ہے، میں بہت زیادہ خوش تھی. لیکن، سب سے اہم چیز جس سے میں ہمیشہ خوش رہوں گی وہ یہ کہہ “کشمیر کی سب سے کم عمر مصنف لڑکی”. میں الفاظ میں وضاحت نہیں کر سکتی کہ جب آپ اپنی مدر لینڈ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں. یہ ایس قدر خوشی کا مقام ہے کہ جو بتایا نہیں جا سکتا ہے.
ہمیں اپنی کتاب کے بارے میں مختصر طور پربتائیں؟
میری کتاب “دی فریزنگ پوائنٹ” ایک سانحہ کی وجہ ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اثرات کچھ وجوہات کا نتیجہ ہوتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس کے عوامل پر توجہ دینے کے بجائے اثرات پر ماتم کرتے ہیں. ہم اثرات اور ان کی وجوہات کو کم کرنا چاہتے ہیں جو کہ تمام عوامل کی جڑ ہیں لیکن کر نہیں پاتے. ہمیں ان کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے
“دی فریزنگ پوائنٹ” زندگی کے روشن اور خوشگوار، اندھیرے اور بھوک کے سفرکے پر روشنی ڈالتی ہے. اس کتاب میں اس منظرنامے پر روشنی ڈالی گئی جو ایک برائی کے سبب ایک عام انسان کو تبدیل کردیتی ہے
مزید جاننے کے لئے یہ ناول پڑھیں اور اپنے کمنٹس دیں https://www.meraqissa.com/book/510

لکھنے کے لئے کون آپکی حوصلہ افزائی کرتا ہے؟
میرے خاندان میں، میرے بھائیوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ہے چاہے وو لکھائی ہو یا کوئی اور کام . میرے بھائی مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ہمیں تمھارے اندر ایک رائیٹر نظر اتا ہے جس کا احساس مجھے بعد میں ہوا جب میری لکھی ہوئی کتاب “دی فریزنگ پوائنٹ” کی بہت زیادہ تعریف ہوئی
پاکستان اور بیرون ملک کونسی مصنفہ آپ کی پسندیدہ ہیں؟
ایک شاندار ریڈر ہونے کے باوجود، میں پاکستان اور بیرون ملک سے بہت سے مصنفین کو پڑھتی ہوں. اردو ادب میں، اشفاق احمد، ممتاز مفتی، اور قدرت اللہ شااب سب سے زیادہ مقبول ہیں. انگریزی ادب میں، مجھے خلیل جبران، جان گرین، خالد حسینی، اور نکولس اسپارک کو پڑھنا پسند ہے. اس کے علاوہ، میں نے ایلفی شافک کی کس طرح تعریف کروں جنہوں نے اپنے شاندار کام “فورٹی رولز آف لوو” میں رومی اور شمس کی محبت کا جو نقشہ کھینچا ہیے
آپ کو لکھنے کے لئے کس نے متاثر کیا ؟
پاکستان میری کہانیاں اور مضامین کو لکھنے کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں سماجی نا انصافیاں ہیں جو کہ خاص طور پر ہمارے اپنے ملک پاکستان میں بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے میری بڑی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے. میں چاہتی ہوں کہ گھر میں بیٹھ کرپڑھنے والے کچھ سوچنے کے قابل ہوں. مجھے لگتا ہے کہ دوسرے منصفین کو بھی ان مسائل سے سیکھنا چاہیے جو ہمارے معاشرے کو خراب کر رہے ہیں، اور ان پر کام کرنا شروع کریں.
لکھنے کے خواہشمند لوگوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟
لکھنا ایک سادہ نوکری کا کام نہیں میں جانتی ہوں کہ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ کچھ لکھنا آسان ہے اور آپ ایک ماہ میں لکھنا شروع ہو جائیں گے خیر میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا. مجھے تحریر، ترمیم، اور پبلشنگ کے پروسیس کو جانے کے لئے صبر سے انتظار کرنا پڑا. یہاں تک کہ، مجھے اپنی کتاب کی جھلک کے لئے اتنا خطرہ تھا. اچھی چیزیں وقت لگاتی ہیں. اگر آپ واقعی لکھتے ہیں اور شائع شدہ مصنف بننا چاہیں تو سب سے پہلے صبر کی مہارت پر عمل کریں. دوسرا، مالیاتی فوائد کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں. مہارت میں صرف ایکسل کریں، اور اس کو ایک سو دس فیصد دے دیں.
ہمارے استاد نے ہمیں بتایا ہے کہ پیسہ ، فخر اور کامیابی ایک مصنوعی چیزہے. آخر میں، اگر آپ اچھے مصنف بننا چاہتے ہیں، تو ایک اچھا ریڈر بنیں. پڑھنا آپ کو بہت ساری چیزیں دیتا ہے. اگر آپ اچھے ریڈر نہیں ہیں تو آپ اچھے مصنف نہیں بن سکتے ہیں. پڑھائی کی چیزیں منتخب کرنا ایک اہم چیز ہے. ہمیشہ ایسے مواد کو منتخب کرنے کی کوشش کریں جو آپ کو مثبت سوچنے پر مجبور کرے. تاکہ آپ کی تحریریں عوام پر اثر انداز کرسکیں.
اُردو نیوز پراس کہانی کو شائع کیا ہے علی پرویز نے